Sunday, September 19, 2021

Reply to Protestation (2) (English transliteration with translation) Message from Heaven for Muslims of today: Dr. Javed Jamil

 

 

Reply to Protestation (2) (English transliteration with translation)

Message from Heaven for Muslims of today:

Dr. Javed Jamil

 


فلک سے پیغام آج کے مسلم کے نام

 

ڈاکٹر جاوید جمیل

 

درج تاریخ میں اک شکوہ ہوا تھا پرسوز

 شاندار آیا جواب اس کا پھر ایمان افروز

درد تھا شکوے میں، خفگی بھی تھی بیباک بھی تھا

 اور خطبہ کی فصاحت تھی نصیحت آموز

 

 

 آج پھر آیا فلک سے ہے نیا اک پیغام 

فکر انگیز ہے، اس میں ہے مقدر کی زمام

پہلا خطبہ تھا اسی وقت کی امّت کو جواب

اب سنو کیا ہے پیام آج کے مسلم کے نام:

 

روح کے حق میں تھا برہان جواب_اول 

کہکشاں جیسا وہ پرنور تھا, مثل_مشعل

مضطرب شکوے کو سن کر جو تھے سب اہل_فلک

 خامشی چھا گئی، اور رک گئی ساری ہلچل

 مطمئن گئے سب, رک گئی ساری ہلچل

م 

 

مضطرب رہنے لگے پھر سے ہیں لیکن افلاک

انکو لگتا ہے سو_ نار چلا بندہ_خاک

انکی خواہش ہے مسلمانوں سے پھر سے ہو خطاب

تاکہ ایماں ہی نہیں, چست ہو ان میں ادراک

 

آج پھر سوچا تخاطب کروں  کچھ بات کہوں

آجکل کیسے ہیں بدلے ہوئے حالات کہوں

تم کھڑے ہو کہاں میدان_ عمل میں بولوں

اور کیسے ہیں زمانے کے خیالات کہوں

 

خوش ہوں بدلے ہوئے لگتے ہیں تمہارے اطوار

ہیں مساجد کو بھی پہلے سے زیادہ دیدار

 نوجوانوں کے لہو میں بھی روانی آئی

 قلب بھی، ذہن بھی لگنے لگے کافی بیدار

 

سرخ تحریک کا اب زور بہت ہی کم ہے

اور آزاد پسندی کی بھی لو مدھم ہے

فتنہ جو پھیل رہا تھا کبھی دہریت کا

لاش کی طرح وہ کونے میں پڑا بے دم ہے

  

روس و امریکہ بھی بھاگے، ہوئے آزاد افغان

شاہ بھی ملک سے نکلا، ہوا مسلم ایران

شام کے حال ہیں بہتر، ہوا پرامن عراق

اب فلسطین کے بھی جاگ اٹھے ہیں ارمان

 

گونجنے پھر سے لگی آج اذان_ توحید

جاگنے پھر سے لگی قوم کے اندر امید

کچھ علاقے ہیں جو قبضے میں ہیں غیروں کےابھی

 چند قلعے ہیں جنھیں ہونا ہے مسمار مزید

 

 عزم زندہ ہے مگر نظم کا فقدان بھی ہے

اور تحقیق کا سویا ہوا رجحان بھی ہے

 وقت کے کیا ہیں تقاضے یہ سمجھتے کم ہو 

اب جو درکار ہے کمیاب وہ سامان بھی ہے

 

زور_قوت بھی ہو دشمن کی جفا کی خاطر

اور تجارت بھی ضروری ہے بقا کی خاطر

یاد رکھنا یہ مگر ہو نہ کبھی فعل_ حرام

شرع_ اسلام ہے انساں کی بقا کی خاطر

 

یہ تو تسلیم، ہو ایمان سے تھوڑے مضبوط

لیکن اسلام تمہارا نہیں اتنا مربوط

حق ہے مومن کا، ہمیشہ رہے جنت کا سرور

یاد لیکن رہے ایماں ہے عمل سے مشروط

 

طرز_ افکار تمہارا  بھی تھا بہکا پہلے

اور انداز _ تمدن بھی تھا بدلا پہلے

کچھ میں تھی روس نوازی تو کچھ امریکہ نواز

 تھا نظریات نے اغیار کی جکڑا پہلے

 

عمر لگتی ہے اداروں کی بھی کم سن اب بھی

ڈستی ذہنوں کو ہے شبہات کی ناگن اب بھی

غیروں کی شہہ پہ تم آپس میں لڑا کرتے ہو

فرقہ بندی میں ہے ڈوبا ہوا باطن اب بھی

 

بے رخی اصل مسائل سے ابھی ہے بیحد

اب بھی آپس میں تعاون کی کمی ہے بیحد

بھائی چارہ جو ضروری ہے نہیں ہے موجود

آپسی رشتوں میں تقسیم بڑھی ہے بیحد

 

 جس جنوں کا ہے تقاضا وہ ابھی نادر ہے

حق شناسی کے طریقوں سے بھی دل قاصر ہے

 تجزیہ اسکا ضروری ہے کہ تم آج ہو کیا 

شان _ ماضی پہ مگر آج بھی دل فاخر ہے

 

  آخری فتح مگر ہو نہیں سکتی حاصل

سارے میدانوں میں جب تک نہیں ہوگے کامل

کرنا سر ہے نئے تحقیق کے میدانوں کو

درس میں کردو نفع بخش ہر اک فن شامل

 

حال_حاضر کو بس اب حال_گزشتہ کر دو

اپنے ہر کام کو مانند_فرشتہ کر دو

سن لو یہ خوب، ہے تدبیر کی تابع تقدیر 

وجہ_ نقصان ہو جو قطع وہ رشتہ کر دو

 

 

نظم_ نو کیا ہے فقط قوت و ثروت کا حصول

اور مفادات کی خاطر ہے ہر اک فعل قبول

صرف ہنگامہ ہے، تشہیر ہے جھوٹی ہر سو

محض دعوے ہیں، دکھاوا ہے، دلائل ہیں فضول

 

جسکو کہتے ہیں وہ موڈرن وہ وحشت ہے فقط

امن کا نام ہے اور اصل میں دہشت ہے فقط

جسکو کہتے ہیں وہ فریڈم وہ ہے بے راہروی

انکی نظروں میں ہدف حاصل_ دولت ہے فقط

 

پہلے اسباب_ مسائل کی تجارت ہوگی

پھر مسائل کے کسی حل کی وکالت ہوگی

خوب سگرٹ بھی، شرابیں بھی بکینگی پہلے

پھر شفاخانوں میں بھی بارش_ دولت ہوگی

 

نام آزادئ_ نسواں کا لیا جائے گا 

اور پھر حسن کو نیلام کیا جائے گا

عورتوں کو یہ سبق یاد کرا ڈالا ہے

ہونگی عریاں تبھی انعام دیا جائے گا

 

انکے گھر میں جو عذاب آیا دکھاتے ہی نہیں

لاکھوں مرتے  ہیں نشے سے یہ بتاتے ہی نہیں

رحم _ مادر میں جو بچوں کا کیا جاتا ہے قتل

اسکی روداد زمانے کو سناتے ہی نہیں

  

عالمی جنگوں میں جنکی رہی حصّے داری

ہیں وہ ایوان _ ممالک کے بڑے درباری

یوں بظاہر نظر  آتی ہے رقابت ان میں

بانٹ کے کھاتے ہیں دنیا کی وہ فصلیں ساری

 

 وقت آیا ہے کرو ان سے تم اب عقل کی جنگ

فکر و دانش میں دکھا ڈالو تم اب اپنے رنگ

آئنہ تلخ حقیقت کا دکھادو انکو

شعبہ_ نشر و اشاعت میں بھی ہو جاؤ دبنگ

 

عالم_نو کو بتا دو کہ فراغت کیا ہے

امن کیا شے ہے، فسادات سے فرصت کیا ہے

ان سے کہہ دو کہ گناہوں کی تجارت سے گریز

 انکو آگاہ کرو اصل معیشت کیا ہے

 

ان پہ واضح کرو اسلام کا کیا ہے مقصد

امن عالم میں، ہر اک گھر میں سکوں کی آمد 

ایسا ہر فعل منع  جو ہو مرض کا باعث

 جنگ سے دور ہو ہر ملک کی ہر اک سرحد

 

کب ہے انعام_ عمل صرف بہشتوں کا سرور

وعدہ_ حور نہیں صرف، نہ ہی جام_ طہور

 ارض پر ہو گیا مضبوط اگر حق کا نظام

ہوگا دنیا میں ہی جنت کی سی جنت کا ظہور

 

 

مستقیم ایک ہے رہ جس پہ سفر ہو پیہم

رہ وہ "انعمت علیھم" کے رہے جس پہ قدم

ساری دنیا کو محبت سے بلانا ہے قریب

تب ہی لہرائے گا کل  ارض پہ حق کا پرچم

 

وقت اب دور نہیں، ہوگا ہر اک سو اسلام

دشت و صحرا میں بھی گونجیگا محبت کا پیام

کوئی تفریق کہیں بھی نہ رہے گی باقی

ہر طرف پھیلیگا انصاف کا مضبوط نظام

 

 قتل ہوگا، نہ زنا ہوگا، نہ چوری ہوگی

ظلم کا نام و نشاں تک نہ رہے گا باقی

حکمراں یاد رکھیں گے کہ ہیں رحمان کے عبد

عام شہری کا خیال ان پہ رہیگا طاری

 

 قہر برسیگا نہ آئینگے زمیں پر سیلاب 

کوئی پیاسا نہ رہیگا سبھی ہونگے سیراب

کوئی چھوٹا نہ بڑا، سب کو میسر روزی

کوئی بھی چیز جو اچھی ہے نہ ہوگی نایاب

 

یہ سمجھنا ہے تمہیں دیں کی ضرورت کیا ہے

اور اس دیں سے مسلمان کی نسبت کیا ہے

کسکو کہتے ہیں اقامت، کسے کہتے ہیں ثبات

عبد کے فرض ہیں کیا، حسن_ عبادت کیا ہے

  

مقصد_ زیست سمجھ جاؤ تو حاصل جنت

ہر طرف فرحت _ پرکیف، ہر اک سو رحمت

کوئی تکلیف نہیں اور نہ کوئی موت کا خوف

کوئی بھی ڈر، نہ مصیبت، نہ کوئی بھی زحمت

 

دیکھو قرآن نہیں صرف شریعت کی کتاب

اس میں موجود ہیں کتنے ہی نئے علم کے باب

ہوں وہ آیات_ سماوات کہ ہو ارض کا ذکر 

ان میں مل جائے گا پر امن ترقی کا نصاب

 

یاد رکھنا کہ نہیں چھوڑنی راہ_ توحید

اور محمد (صلعم)  کے طریقے سے ہی رکھنا امید

  منتظر تم ہو جو مہدی کے تو کچھ حرج نہیں 

ایک دن ہوگی ہر اک گھر میں، ہر اک ملک میں عید

 

سہل الفاظ میں سمجھادی ہے ہر کام کی بات

ایک امید کے ساتھ آیا ہے سامان_ نجات

یاد کر ڈالو سبق اور عمل تیز کرو

پاس ہے صبح، بہت جلد گزر جائے گی رات

 

سر جسے کر نہ سکو ایسا کوئی طور نہیں

عزم محکم ہو تو تو منزل پہ قدم دور نہیں

 

 

 

 

Jawaab-e shikwah (2)

falak se payaam aaj ke musalmaanoN ke naam

Reply to Protestation (2) (English transliteration with translation)

Message from Heaven for Muslims of today:

Dr. Javed Jamil

 

 darj taareekh meiN ik shikwa huwa tha pursoz

aaya phir khutba jawaabi tha baseerat afroz 

dard tha shikwe meiN, khafgi bhi thi bebaak bhi tha

aur khutbe men fasahat thi naseehat aamoz

 

History had recorded a protestation full of anguish;

Then came an address in reply, full of deep insight

The protestation had pain, an element of anger, and was frankly presented;

And the address was elaborate, full of guidance

(Note: Complaint was directed towards God and the reply was on His behalf)

 

Darte haiN phir na ho gustaakhi-e shikwah koi

Aur karo apni khataaoN pe bahaana joi

Wo samajhte haiN basher pahle ho tum, phir muslim

Aur aadat kahaN insaaN ki rahi haq goi

 

They fear you may again commit discourtesy of protestation;

And find excuses for your own faults;

They think you are human first, then Muslims;

And the humans are not in a habit of telling the truth.

 

aaj phir aaya falak se hai naya ik paigham

fikr angeiz hai, is meiN hai muqaddar ki Zamam

pehla khutba tha usi waqt ki ummat ko jawab

ab suno kya hai payam aaj ke Muslim ke naam:

 

Today again, a new message has descended from the heaven;

Thought provoking, with the key to fortune attached;

First reply was addressed to the Ummah of that time;

Now listen what is the communication for the Muslim of modern times:

 

rooh ke haq mein tha Burhan jawaab_a awwal
kehkashan jaisa wo Purnoor tha misl_e mash’al
muztarib shikwe ko sun kar jo the sab ahl_e falak
mutmain ho gaye sab, ruk gai saari halchal

 

The first address was a source of guidance for the spirit;

Shining like a galaxy, similar to a radiant torch;

The residents of heavens who got perplexed after hearing the complaint;

They got satisfied (with the reply), and the storm got silenced.

 

muztarib rehne lage phir se haiN lekin aflaak
unko lagta hai suwe naar chala bandah_e khaak
unki khwahish thi musalmanoN se phir se ho khitaab
taakay ayman hi nahi chust ho un mein idraak

 

But again the heavens have begun to remain tense;

They feel that the Product of Dust is moving towards Fire;

Their desire is that Muslims need to be addressed again;

So that not only their faith but their understanding also gets strengthened.

Note: Product of Dust means human being

Fire means Hell

 

aaj phir socha takhaatub karuN, kuch baat kahooN

aajkal kaise haiN badle hue haalaat kahooN

tum khare ho kahaN maidaan_e amal meiN bolooN

aur kaise haiN zamane ke khayaalaat kahooN

 

Today I thought I should have conversation and say something valuable;

And talk about what are the changing circumstances;

Telling where you are standing in the field of action;

And tell the truth about the way of modern thinking.

 

khush huN badle hue lagte haiN tumhare atwaar

haiN masajid ko bhi pehle se ziyada deedar

NojawanoN ke lahoo meiN bhi ravaani aayi

qalb bhi, zehn bhi lagne lage kaafi bedaar

 

I am pleased, your ways appear to be have changed;

Mosques too have your presence in increasing numbers;

The blood of the young has started moving;

Heart and brain appear to have become more awakened.

 

surkh tehreek ka ab zor bahut hi kam hai

aur azaad pasandi ki bhi lau maddham hai

fitna jo phail raha tha kabhi dehriyyat ka

laash ki tarha wo kone me para bedam hai

 

The Red Movement has become rather ineffective;

And the glow of liberalism too has become paler;

The falsehood of atheism, which was spreading fast in the past;

Is now lying in a corner like a dead corpse.

 

(Red Movement means Communism)

 

Roos o Amrika bhi bhaage, hue aazaad Afghan

Shah bhi mulk se nikla, huwa muslim Iran

shaam ke haal haiN behtar, hua puramn iraaq

ab filastine ke bhi jaag uthe haiN armaan

 

Russia and America have fled; Afghans are free now;

The King left the country; Iran became Muslim;

Syria is better now; peace is returning to Iraq;

The ambitions of Palestine too have awakened.

 

goonjne phir se lagi aaj azaan_ e toheed

jaagne phir se lagi qoum ke andar ummeed

kuchh ilaaqe haiN jo qabze meiN haiN ghairoN ke abhi

chand qil’ey haiN jinheN hona hai mismaar mazeed

 

Azaan (Call) of Monotheism has again become loud;

Hopes of the community are beginning to open eyes;

Some areas are still occupied by others;

Certain forts are yet to be demolished.

 

azm zinda hai magar nazm ka fuqdaan bhi hai

aur tehqeeq ka soya huwa rujhaan bhi hai

waqt ke kya haiN taqaaze ye samajhte kam ho

ab jo darkaar hai kamyaab wo saamaan bhi hai

 

The desire is alive, but the discipline is wanting;

And the trend of research is still dormant;

You little understand the demands of the time:

The necessary tools are still lacking.

 

zore_e quwwat bhi ho dushman ki jafaa ki khatir

aur tijaarat bhi zaroori hai baqaa ki khatir

yaad rakhna ye magar ho na kabhi feil_e haraam

shar’ey islaam hai insaaN ki baqa ki khatir

 

Power is also essential for confronting hostilities of enemy;

And business is must for the purpose of survival;

But keep in mind prohibited activities are avoided;

Islamic Law is meant for peaceful existence of humans.

 

ye to tasleem, ho imaan se thore mazboot

lekin Islam tumhara nahiN utna marboot

haq hai momin ka, hamesha rahe jannat ka suroor

yaad lekin rahe eimaaN hai amal se mashroot

 

Agreed that you are quite firm in Iman (faith);

But your Islam is not well-coordinated;

Believers have the right to think of pleasures of Jannah;

But remember Iman (Faith) is conditional to Action.

 

tarz_e afkaar tumhara bhi tha behka pehle

aur andaaz _ tamaddun bhi tha badla pehle

kuch meiN thi roos nawazi to kuch Amrika nawaz

tha nazaryaat ne aghyaar ki jakra pehle

 

Your thinking had become wayward in the past;

Your style of living too had changed;

Some had become Pro-Russia, some pro-America;

The viewpoints of others had gripped you.

 

umr lagti hai idaaroN ki bhi kam-sin ab bhi

dasti zehnoN ko hai shubhaat ki naagin ab bhi

ghairoN ki sheh pe tum aapas meiN lara karte ho

firqa bandi men hai dooba hua baatin ab bhi

 

The institutions are still in their adolescence;

The snake of scepticism still bites your brains;

You fight among yourselves on others’ instigation;

Your inside is still drowned in sectarianism.

 

berukhi asl masail se abhi hai behad

ab bhi aapas meiN taawun ki kami hai behad

bhaaichara jo zaroori hai nahiN hai maujood

aapsi rishtoN meiN taqseem barhi hai behad

 

You are still not paying attention to real issues;

You lack mutual cooperation in a big way;

The necessary brotherhood is missing;

Mutual relations too are plagued by divisions.

 

jis junooN ki hai zaroorat wo abhi naadir hai

haq shanaasi ke tareeqoN se bhi dil qaasir hai

tajziya is ka zaroori hai ki tum aaj ho kya

shaan _e maazi pe magar aaj bhi dil faakhir hai

 

The passion which is required is still rare;

Hearts are not aware of the ways of recognising the truth;

You require analysis of what you are today;

Instead of feeling proud of your glorious past.

 

aakhri fatha magar ho nahiN sakti haasil

saare maidaanoN meiN jab tak nahiN hoge kaamil

karna sar hai naye tehqeeq ke maidaanoN ko

dars meiN kar lo nafa bakhsh har ek fan shaamil

 

But the ultimate victory cannot be achieved;

Unless you get expertise in all fields;

You have to master new fields of research;

Every good science and art needs to be in curriculum.

 

haal_e haazir ko bas ab haal_e guzishta kar do
apne har kaam ko maanind_e farishta kar do
sun lo ye khoob, hai tadbeer ki tabe taqdeer
wajh_e nuqsaan ho jo qat’a wo rishta kar do


Enough! Now turn your present into past;

Every action of yours needs to become angel-like;

Learn carefully, fortune is subordinate to planning;

Any link, which is harmful, needs to be broken.

 

nazm_e no kya hai faqat quwwat-o sarwat ka husool

aur mafadaat ki khatir hai har ik feil qubool

sirf hungama hai, tashheer hai jhooti har soo

mehz daawe haiN, dikhawa hai, dalail haiN fuzool

 

What is New World Order: nothing but gaining power and grandeur;

And for their vested interests, every activity is acceptable:

It is nothing but noise, publicity and false propaganda;

False claims, vain show; unfounded arguments.

 

jisko kehte haiN wo modern wo wehshat hai faqat

amn ka naam hai aur asl meiN dehshat hai faqat

jisko kehte haiN wo freedom wo hai beraahravi

unki nazroN meiN hadaf haasil_e doulat hai faqat

 

What is “Modern”, nothing but barbarism;

It talks of peace and it is nothing but terror;

What is “Freedom”, nothing but waywardness;

The only target in their eyes is the control of money.

 

pehle asbaab_e masail ki tijaarat hogi

phir masaail ke kisi hal ki wakaalat hogi

khoob cigrette bhi sharabeiN bhi bikengi pehle

phir Shifa khaanoN meiN bhi baarish_e doulat hogi

 

First, they commercialise causes of the problems:

Then they will promote some solution of the problem;

First cigarettes and wines will be marketed to the hilt;

Only then the hospitals will have the rain of wealth.

 

naam aazaadi_e niswaaN ka liya jaayega

aur phir husn ko nelaam kiya jaayega

auratoN ko ye sabaq yaad kara dala hai

hongi uryaaN tabhi in’aam diya jaayega

 

They will talk of “Freedom of women”;

Then they will openly market beauty;

Women have been made to learn the lesson;

If ready to show skin, only then will they be awarded.

 

unke ghar meiN jo azaab aaya dikhaate hi nahiN

laakhoN marte haiN nashe se ye bataate hi nahiN

rehm_e maadar meiN jo bachchoN ka kiya jaata hai qatl

uski rudaad zamane ko sunaate hi nahiN

 

The scourge that has afflicted their places, they will not show;

Hundreds of thousands die of intoxication, they will not tell;

The mass murder being perpetrated in the wombs of mothers—

Its stories will not be broadcast to the world.

 

aalami jangoN meiN jinki rahi hissedaari

haiN wo ewaan_e mumalik ke bare darbaari

yuN bazaahir nazar aati hai raqaabat un meiN

baant ke khate haiN duniya ki wo fasleiN saari

 

The countries that got engaged in the world wars;

Are now the big players of the organisation of nations;

Apparently they are bitter rivals;

But they jointly consume all the products of the world.

 

waqt aaya hai karo unse tum ab aql ki jung

fikr o daanish meiN dikha daalo tum ab apne rang

aaina talkh haqeeqat ka dikha do unko

shoba_e nashr o ishaat meiN bhi ho jao dabang

 

Time has come you have to engage them in a war of brains;

You have to show your mettle in intellectual domains;

You have to show them the mirror of bitter truth;

You have to master the department of media and communications.

 

aalam_no ko bata do ki faraaghat kya hai

amn kya shai hai fasaadaat se fursat kya hai

un se keh do ke gunaahoN ki tijaarat se gurez

unko aagaah karo asl maeeshat kya hai

 

Tell the new world what the actual liberation is;

What the true peace is and freedom from turmoil;

Tell them not to engage in the commercialisation of vices;

Inform them what the truth of the real economics is.

 

un pe waazeh karo Islam ka kya hai maqsad

amn aalam meiN har ek ghar meiN sukooN ki aamad

aisa har feil manaa jo ho maraz ka baais

jung se door ho har mulk ki har ik sarhad

 

Clarify to them the true mission of Islam;

Security in the whole world, peace in every home;

Ban on all practices that threaten life and health’

Away from war, every border of every country.

 

kab hai in’aam_e amal sirf bahishtooN ka suroor
waada_e hoor nahiN sirf, na hi jaam_e tahoor
arz par ho gaya mazboot agar haq ka nizaam
hoga duniya meiN hi jannat ki si jannat ka zahur

 

The prize of effort is not just the entry in Paradise;

It’s not just about hourie or the harmless wines;

If the system of truth prevails on the earth;

This world itself will become a paradise like Paradise.

 

mustaqeem aik hai rah jis pe safar ho paiham
rah wo  “an’amta alaihim" ke rahe jis pe qadam
saari duniya ko muhabbat se bulana hai qareeb
tab hi lahraaye ga kul arz pe haq ka parcham

 

Established Course of Truth is the one to continuously traverse;

The path the Blessed Ones (of God) always treaded;

The whole world is to be brought close through love;

Only then Flag of Truth will be hoisted on the Earth.

 

waqt ab door nahiN hoga har ik soo Islam

dasht o sehraa meiN bhi goonjega muhabbat ka payaam

koi tafreeq kahiN bhi na rahegi baaqi

har taraf phailega insaaf ka mazboot nizaam

 

Time is not far there will be Islam (Peace) in every direction;

Even in deserts and forests, the message of love will reverberate;

Discrimination will cease to exist anywhere;

A strong system of justice will rule everywhere.

 

qatl hoga na zina hoga na chori hogi

zulm ka naam o nishaaN tak na rahega baaqi

hukmuraN yaad rakhenge ke haiN Rehmaan ke Abd

aam shehri ka khayaal un pe rahega taari

 

There will be no murders, no illicit relationships, no thefts;

No traces of oppression and exploitation will be left;

Rulers will remember that they are servants of Kind God;

Welfare of common men will be in their hearts and minds.